سبز عمامہ
آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کا سبز عمامہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ سبز عمامہ شریف بھی سبز سبز گنبد کے مکین رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم سے پہننا ثابت ہے۔(1) نیز مہاجر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے بھی سبز عمامے شریف پہننے کا
ثبوت ملتا ہے
1…کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ص ۳۸
(1) اور غزوئہ حنین کے موقعہ پر فرشتے بھی سر پر سبز عمامے کا تاج سجائے مسلمانوں کی مدد کیلئے تشریف لائے تھے۔(2)
خَاتَمُ المُحَدِّثِین حضرت علّامہ شیخ عبدالحق محدّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں ، ’’دستار مبارک آنحضرت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم در اکثر اوقات سفید بود و گاہے سیاہ و احیاناً سبز یعنی سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کا مبارک عمامہ اکثر سفید اور کبھی سیاہ اور بعض اوقات سبز ہوتا۔ (کشف الالتباس فی استحباب اللباس، ص ۳۸)
مزید فرماتے ہیں : ’’بہترین لباس سفید ست و بدستارِ سیاہ یا سبز‘‘ یعنی بہترین لباس سفید ہے اور عمامہ میں سیاہ و سبز رنگ (باندھنا)۔ ( کشف الالتباس فی استحباب اللباس،ص ۳۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مرکزالاولیاء لاہور کی بادشاہی مسجد میں رکھے ہوئے سبز گنبد والے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کی طرف منسوب عمامہ مبارکہ کا رنگ بھی سبز ہے جس کا جی چاہے زیارت کر کے اپنی
آنکھیں ٹھنڈی کرے۔
1…مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب اللباس ، باب من کان یعتم بکور واحد ، ۱۲/۵۴۵، حدیث:۲۵۴۸۹)
2…تفسیر خازن، پ ۹، الانفال، تحت الآیۃ۹، ۲/۱۸۲
حضرت حاجی اِمدَادُاللہ مہاجر مکی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضور ِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہ و َسَلَّم کی خواب میں زیارت کے حصول کا طریقہ یوں بیان کیا ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد پوری پاکی سے نئے کپڑے پہن کر خوشبو لگا کر ادب سے مدینہ ٔ منورہ کی طرف منہ کرکے بیٹھے، اور خُدا (عَزَّوَجَلَّ ) کی درگاہ میں جمالِ مبارک آنحضرت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہ و َسَلَّم کی زیارت حاصل ہونے کی دُعا کرے اور دل کو تمام خیالات سے خالی کر کے آنحضرت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہ و َسَلَّم کی صورت کا سفید شفاف کپڑے اور سبز پگڑی (عمامے) اور منوّر چہرہ کے ساتھ تصور کرے اور اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ کی داہنے اور اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللہ کی بائیں اور اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حَبِیْبََ اللہ کی ضرب دل پر لگائے اور متواتر جس قدر ہو سکے درود شریف پڑھے اس کے بعد طاق عدد میں جس قدر ہو سکے اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا اَمَرْتَنَا اَنْ نُّصَلِّیَ عَلَیْہِ اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا ھُوَ اَھْلُہ اَ للّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا تُحِبُّ وَتَرْضَاہُ اور سوتے وقت اکیس بار سورۂ نصر پڑھ کر آپ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہ و َسَلَّم )کے جمال مبارک کا تصور کرے اور درود شریف پڑھتے
وقت سر قلب کی طرف اور منہ قبلہ کی طرف (کر کے )داہنی کروٹ
سے سوئے اور اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ پڑھ کر داہنی ہتھیلی پر دم کرے اور سر کے نیچے رکھ کر سوئے ۔ یہ عمل شبِ جمعہ یا دو شنبہ (پیر )کی رات کو کرے اگر چند بار کرے گا اِنْ شَآءَ اللہ تَعَالٰی مقصد حاصل ہو گا۔
(کلیاتِ امدادیہ ، رسالہ ضیاء القلوب ، ص ۶۱)
حاجی اِمدادُ اللہ مہاجر مکی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے مذکورہ قول سے دو باتیں واضح ہوئیں :
(۱)حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کا سبز عمامہ باندھنا حق ہے، ورنہ ایک ایسا کا م جو نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے کیا ہی نہیں وہ آپ کی طرف منسوب کرنا لازم آئے گااور ایسی ہستی سے اِس بات کا تصور کرنا درست نہیں۔
(۲) اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُولَ اللہ کا ورد کرنا ناجائز یا حرام نہیں ہے بلکہ یہ تو وہ درود ہے کہ جس کے وِرد سے حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ و َاٰلِہٖ و َسَلَّم کی زیارت نصیب ہوتی ہے۔
سیّدنا عیسٰی علیہ السلام کا سبز عمامہ
عَارِف بِاللہ ،نَاصِحُ الْاُمَّہ حضرت علّامہ مولانا امام عَبدُالغَنِی بِن اِسمَاعِیل نابُلُسِی حَنَفِی عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اور حضرتِ علّامہ محمد عبد الرَّ ء ُوف مناوی عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ (قربِ قیامت ) جب حضرت سیِّدنا عیسٰی عَلی
نَبِیِّنا و عَلیہِ الصَّلوٰۃ والسَّلام زمین پر تشریف لائیں گے تو آپ کے سرِ اقدس پر سبزسبز عمامہ شریف ہو گا۔ (الحدیقۃ الندیۃ، ۱/۲۷۳، فیض القدیر، حرف الدال ، فصل فی المحلی بال من ھذا الحرف، ۳/۷۱۸، تحت الحدیث:۴۲۵۰، عقدالدرر فی اخبار المنتظر، الفصل الثانی فیما جاء من الآثار الدالۃ علی خروج الدجال الخ، ص۳۴۲)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
.jpg)
Post a Comment