Daama reward ngny
Praying in the Holy Quran, Al-Furqan Hameed says it is about several verses,
(1) وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ
(2) اُدْعُوۡا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ؕ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ ﴿ۚ55﴾
(3) وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ؕ
(4) اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوۡٓءَ
Literature about:
(Muslim, ualdaaء the latter, the former ualdaaء ualtqrb b grace, the 2675, vol. 1, s2 144)
(Tirmidhi, book aldauat, the b (107), the 3551, j5, p. 318)
دعاما نگنے کا ثواب
قران مجید فرقان ِ حمید میں دعا مانگنے کے بارے میں کئی آیات ہیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے،
(1) وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ
ترجمہ کنزالایمان:اوراے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پو چھیں تومیں نزدیک ہوں دعاقبول کرتاہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے ۔(پ 2 ، البقرۃ :186)
(2) اُدْعُوۡا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ؕ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ ﴿ۚ55﴾
ترجمہ کنزالایمان:اپنے رب سے دعا کروگڑگڑاتے اورآہستہ بے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔''(پ 8،الاعراف : 55)
(3) وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:اورتمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔''(پ 24، المؤمن : 60)
(4) اَمَّنۡ یُّجِیۡبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوۡٓءَ
ترجمہ کنزالایمان:یاوہ جولاچار کی سنتاہے جب اسے پکارے اور دور کردیتاہے برائی۔(پ 20 ، النمل : 62 )
اس بارے میں احادیث مبارکہ :
(۱۳۵۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اللہ عزوجل فرماتاہے: ''میں اپنے بندے کے(مجھ سے کئے جانے والے ) گمان کے قریب ہوں اور جب وہ مجھے پکارتاہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔''
(مسلم ،کتاب الذکر والدعاء ،با ب فضل الذکر والدعاء والتقرب ،رقم ۲۶۷۵، ج۱، ص۲ ۱۴۴)
(۱۳۶۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،'' اللہ عزوجل فرماتاہے: '' اے ابن آدم !جب تک تو مجھے پکارتارہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا تو میں تیرے گناہوں کی مغفرت فرماتار ہوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔''
(ترمذی ،کتا ب الدعوات ،با ب(۱۰۷) ،رقم ۳۵۵۱، ج۵، ص ۳۱۸)

Post a Comment