Janajayz the good-doers are invited to give

Devout Muslim brothers who are righteous, not only in the cultivation of friendship good and bad people treat the disobedient can sit with the Para 7 of Islamic Monotheism and identify the meaning of verse 69 says:
 وَ مَا عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ مِنْ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ لٰکِنۡ ذِکْرٰی لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوۡنَ ﴿۶۹﴾  (پ۷،الانعام:۶۹)
Tohru agreed: and according to them, nothing righteous, yes, he might turn to give advice.
The President Molina sydmhmd a lafazl Naeem Uddin Al-Hadi treasures sws alarfan the population under the verse says: This verse indicates that co-expression of the right to counsel and is permitted to sit with them.



Hajjaj also refrain from backbiting



Religion Sulaymaan Mubeen lodgers in the absence of the daurazujl so feared persecution whose stories are well known to those used to avoid unnecessarily burdensome to mention the Prophet Hazrat a smayl Haque alquy (RA) narrates: Hazrat Imam Mohammad Ibn Sirin sws Mubeen was asked: What ever you pilgrims (son of Joseph) said about two words (ie it did not rail ) said: "I (Allah's secret plan to), I fear, lest the resurrection of Allah bless him tuchur monotheism (ie, than because he was a Muslim, therefore your grace forgive her stint) and due to the absence of this grant suffer. '' (j9 tribulations and trials s90)


فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔

نیکی کی دعوت دینے کے لئے فاسقوں کے پاس جاناجائز ہے

جو اسلامی بھائی مُتَّقِی پرہیزگار ہو، وہ یاری دوستی میں نہیں بلکہ صِرف نیکی کی دعوت کی حد تک نافرمانوں اور بگڑے ہوئے لوگوں کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے چُنانچِہ پارہ7 سورۃُ الانعام آیت نمبر 69میں ربُّ العباد عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:

 وَ مَا عَلَی الَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ مِنْ حِسَابِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ وَّ لٰکِنۡ ذِکْرٰی لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوۡنَ ﴿۶۹﴾  (پ۷،الانعام:۶۹)

ترجَمہ کنزالایمان:اور پرہیزگاروں پر ان کے حساب سے کچھ نہیں ،ہاں نصیحت دینا شاید وہ باز آئیں۔
حضرتِ صدر ا لْافاضِل مولیٰنا سیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی خَزائنُ العرفان میں اس آیتِ کریمہ کے تحت فرماتے ہیں:اس آیت سے معلوم ہوا کہ پند و نصیحت اور اظہارِ حق کے لئے ان کے پاس بیٹھنا جائز ہے ۔

حَجّاج بن یوسف کی غیبت سے بھی پرہیز


ہمار ے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المبین کو غیبت کے مُعامَلے میں اللہُ داوَرعَزَّوَجَلَّ کا اس قدر ڈر رہتا تھا کہ جن کے ظلم و ستم کی داستانیں مشہور و معروف ہوتیں ان کا بھی بِلاضَرورتِ شرعی تذکِرہ کرنے سے بچتے تھے جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ا سمٰعیل حقّی علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی نقل کرتے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا امام محمد ابنِ سیرین علیہ رَحمَۃُ اللہِ المُبین سے عرض کی گئی:کیا بات ہے کہ آپ نے کبھی بھی حجّاج(بن یوسف )کے بارے میں دو لفظ نہیں بولے!(یعنی اُسے بُرا بھلا نہیں کہا)فرمایا:''میں (اللہ عَزَّوَجَلّ کی خفیہ تدبیر سے )ڈرتا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ قِیامت کے دن اللہ تعالیٰ تَوحید کی بَرَکت سے اسے توچھوڑ دے (یعنی چُونکہ وہ مسلمان تھا لہٰذا اِس نسبت کے سبب اپنے فضل و کرم سے اُسے بے حساب بخش دے)اور مجھے اُس کی غیبت کرنے کی وجہ سے عذاب میں مبتَلا فرما دے۔'' (تفسیر روحُ الْبیان ج۹ ص۹۰)

Post a Comment

 
Islamic Status © 2013. All Rights Reserved. Shared by WpCoderX
Top