سورہ بقرہ اور آل عمران پڑھنے کاثواب
(۱۱۲۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سناکہ'' قرآن پڑھا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفا عت کریگا، دور وشن سورتیں یعنی بقرہ اور آل عمرا
ن پڑھا کر و کیونکہ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن سایہ کرنے والے بادل کی طرح آئیں گی کہ گویا پرندوں کے جھنڈ ہیں جواپنے پرپھیلائے ہوئے ہیں ،پھر یہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی ، سورۂ بقر ہ پڑھا کرو کیونکہ اسے پڑھنا باعث برکت اور چھوڑدینا باعث حسرت ہے اوربَطَلَہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔''سیدنا معاویہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ بطلہ سے مرا د جادو گر ہیں۔
(مسلم ،کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضل قراء ۃ القرآن وسورۃ البقرۃ، رقم ۸۰۴ ،ص۴۰۳)
(۱۱۲۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' سورہ بقر ہ اور آل عمرا ن سیکھو کیونکہ یہ رو شن سورتیں قیامت کے دن اپنے قاریوں پرسایہ کریں گی گویا سایہ کرنے والے بادل یا پر پھیلائے ہوئے پرندو ں کا جھنڈہیں۔''
(المستدرک، کتاب فضائل القرآن، باب اخبار فی فضل سورۃ البقرۃ ..الخ،رقم ۲۱۰۱، ج۲، ص۲۶۵)

Post a Comment