علم کے فضائلعلم اور علماء کا ثواب
قرآن مجید فرقان ِ حمید میں کئی مقامات پر علم کے فضائل بیان کئے گئے ہیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے،
(1) شَہِدَ اللہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۙ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ
ترجمۂ کنزالایمان :اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سواکوئی معبود نہیں اور فرشتو ں نے اور عالموں نے۔(پ 3، آل عمران:18)
اس آیت مبارکہ میں اللہ عزوجل نے گواہی کی ابتداء اپنی ذات مقدس سے فرمائی پھر دوسرے درجہ میں ملائکہ اور تیسرے درجہ میں اہل علم کاذکر فرمایا۔اگرچہ ہمارے لئے علم کی فضیلت میں اللہ عزوجل کا یہی فرمان کافی تھا لیکن رب تبارک وتعالیٰ نے فرمایا ،
(2) بَلْ ہُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیۡ صُدُوۡرِ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان :بلکہ وہ روشن آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جن کو علم دیا گیا۔(پ21 ،العنکبوت : 49)
(3) بَلْ ہُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیۡ صُدُوۡرِ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ ؕ
ترجمہ کنزالایمان :اور یہ مثالیں ہم لوگو ں کے لئے بیان فرماتے ہیں اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔(پ21 ،العنکبوت : 49)
(4) اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان :اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔(پ ۲۲ ،سورہ فاطر : ۲۸)
(5) یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕ
ترجمہ کنزالایمان :اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور انکے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔(پ 28، المجادلہ : 11)
(6) ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیۡنَ یَعْلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ ٪﴿9﴾
ترجمۂ کنزالایمان :کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ (پ 23، الزمر: 9)
علم کے فضائل پر مشتمل احادیث ِ مبارکہ :
(۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا امیر ُمعَاوِیَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین میں سمجھ بوجھ عطا فرماتاہے اور میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور عطاکرنے والا اللہ عزوجل ہے۔ اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے اور اللہ عزوجل کا حکم آجائے۔'' (صحیح البخاری ،کتاب العلم ،باب من یرداللہ بہ خیرا الخ،رقم ،۷۱،ج۱،ص۴۲،)
جبکہ طبرَانی شریف کی روایت کے الفاظ کچھ یوں ہیں کہ'' میں نے سرکارِمدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ، ''علم سیکھنے سے ہی آتا ہے اور فقہ غورو فکر سے حاصل ہوتی ہے اور اللہ عزوجل جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتاہے اسے دین میں سمجھ بوجھ عطا فرماتا ہے اوراللہ عزوجل سے۱ س کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ '' (طبرانی ،کتاب الاعتصام، رقم ۷۳۱۲،ج۱۹، ص ۵۱۱)
(۲) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عَمرو رضی اللہ تعالی عنہماسے روايت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمايا''تھوڑا علم زیادہ عبادت سے بہتر ہے اور انسان کے فقیہ ہونے کیلئے اللہ تعالی کی عبادت کرناہی کافی ہے اور انسان کے جاہل ہونے کے لئے اپنی رائے کو پسند کرنا ہی کافی ہے۔ '' (طبرانی اوسط ، با ب المیم، رقم ۸۶۹۸، ج ۶، ص۲۵۷)
(۳) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا حُذَیْفَہ بن یَمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایاکہ'' علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے بڑھ کر ہے اور تمہارے دین کا بہترین عمل تقویٰ یعنی پرہیزگاری ہے۔'' (طبرانی اوسط ، رقم ۳۹۶۰،ج ۳ ،ص ۹۲)

Post a Comment