ہِرنی کی پکاربحضورِشَہَنْشاہِ ابرار

       اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگار،شَفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم صَحراء میں تھے۔ اچانک کسی نے پکارا: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مُتَوجِّہ ہو کر دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا۔ پھر دوسری طرف مُتَوجِّہ  ہو کر دیکھا تو بندھی ہوئی ایک ہرنی نظر آئی اُس نے عَرْض کی :اُُدْنُ مِنِّیْ  یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !یعنی یَارَسُولَ اللہ! میرے قریب تشریف لایئے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قریب تشریف لا کر فرمایا: مَاحَاجَتُکِ؟ یعنی تیری کیا حاجت ہے؟ہرنی بولی: اس پہاڑ میں میرے دو بچے ہیں ،آپ مجھے کھول دیجئے، میں ان دونوں کو دودھ پلا کر آپ کی خدمت میں حاضِر ہوجاؤں گی۔فرمایا: کیا تُو ایسا کرے گی؟ہرنی نے عرض کی : اگر میں ایسا نہ کروں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ  مجھے عِشَار کا عذاب دے۔(عِشار ایسی حامِلہ اونٹنی کو کہتے ہیں جس کا دس ماہ گزر جانے کے بعد بھی بچّہ باہَر نہ آئے، اور اس بے چاری پر بوجھ لادا جائے جس کے سبب وہ تکلیف سے خوب بِلبِلائے، چیخے چلّائے)تو خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے کھول دیا اور اس نے جا کر اپنے بچّوں کو دودھ پلایا اور اِس کے بعد وہ آگئی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اسے باندھ دیا۔اتنے میں اعرابی بیدار ہوگیا اور اس نے دیکھ کر عَرْض کی: یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ کو کوئی کام ہے؟ فرمایا: ہاں اِس ہِرنی کو چھوڑ دے۔ اُس نے اُسے چھوڑ دیا۔ وہ چوکڑیاں بھرتی ہوئی جارہی تھی اور یہ کہہ رہی تھی:  اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَاَنَّکَ رَسُوْلُ اللہ (میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبودنہیں اور بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں )۔ (المعجم الکبیر ج۲۳ ص۳۳۱ حدیث ۷۶۳ ،الخصائص الکبری ج۲ ص۱۰۱)

 

Post a Comment

 
Islamic Status © 2013. All Rights Reserved. Shared by WpCoderX
Top