نمازکی اہميت
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوۡا مَعَ
الرَّاکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾
ترجمہ کنزالایمان: اور نماز
قائم رکھو(۱) اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔(۲)
(پ۱،البقرۃ:۴۳)
تفسير:
(۱) اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے ايک يہ کہ نماز زکوۃ سے
افضل اور مقدم ہے ۔ دوسرا يہ کہ نماز پڑھناکمال نہيں نماز قائم کرنا کمال ہے۔
تيسرا يہ کہ انسان کو جانی،مالی ہر قسم کی نيکی کرنی چاہے۔
(۲) اس سے معلوم ہوا کہ جماعت سے نماز پڑھنا بہت
بہترہے۔ اشارۃً يہ بھی معلوم ہوا کہ رکوع ميں شامل ہو جانے سے رکعت مل جاتی
ہے۔جماعت کی نماز ميں اگر ايک کی قبول ہو جائے تو سب کی قبول ہو جاتی
ہے۔
(تفسير نورالعرفان)
نمازکی فضیلت:
نبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ
وسلَّم کافرمانِ مغفرت نشان ہے :
اَلصَّلَوَاتُ کَفَّارَاتٌ لِّمَا
بَیْنَھُنَّ مَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ۔
ترجمہ :نمازیں ایک دوسری کے درمیان کئے گئے گناہوں
کاکفارہ ہیں جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے ۔
(مصنف عبد الرزاق ،کتاب الطھارۃ ،باب ما
یکفر الوضوء والصلاۃ ،الحدیث۱۴۷،ج۱،ص۳۷)
سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب وسینہ ،سلطانِ باقرینہ صلَّی
اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ غیب نشان ہے:
بَیْنَنَا وَبَیْنَ الْمُنَافِقِیْنَ
شَہُوْدُ الْعَتَمَۃِ وَ الصُّبْحِ، لَا یَسْتَطِیْعُوْنَھُمَا۔
ترجمہ:ہمارے اور منافقین کے درمیان عشاء اور فجر کی
نماز میں حاضر ہونے کافرق ہے، وہ ان دو نمازوں میں حاضر ہونے کی طاقت نہیں رکھتے۔
(الموطأ للامام مالک ،کتاب صلاۃ الجماعۃ
،باب ماجاء فی العتمۃ والصبح ،الحدیث۲۹۸،ج ۱،ص۱۳۳،بتغیرٍ)
اللہ کے پیارے حبیب، حبیب لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی
اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عظمت نشان ہے: ”اَلصَّلَاۃُ
عِمَادُ الدِّیْنِ فَمَنْ تَرَکَھَا فَقَدْ ھَدَمَ الدِّیْنَ
ترجمہ: نمازدین کا ستون ہے پس جس نے اسے چھوڑ دیااس نے دین کو گرادیا۔”
(شعب الایمان ،باب فی الصلوات ،الحدیث۲۸۰۷،ج۳،ص۳۹،تقدم
وتأخر،فقدھدم الدین”بدلہ”فلا دین لہ”)
روایت ہے کہ” بروزقیامت بندے کے اعمال میں سے سب سے
پہلے نماز دیکھی جائے گی اگراسے ناقص پایا گیا تو نماز اور باقی تمام اعمال رد کر
دئيے جائیں گے۔”
(الموطأ للامام مالک ،کتاب قصر الصلاۃ فی
السفر ،باب جامع الصلاۃ ،الحدیث۴۲۸،ج۱،ص۱۶۹،مفہوماً)

Post a Comment